Waseem Barelvi’s Collections of Poetry

waseem.jpg

Two collections of ghazals and Nazms of Waseem Barelvi have been released recently.

‘Aankhon Aankhon mein rahe’ and ‘Meraa Kyaa’ has brought the best of Waseem Barelvi.

The articles of master poets of the past including Nushoor Wahidi, Shamim Kirhani and Firaq Gorakhpuri on Wasim’s poetry have been included.

Nushoor Vahidi has written that from Meer to modern day poets, there is meloncholy in voice of varying degree in the ‘kalaam’ of various poets but the sadness in Waseem’s couplets is not only enchanting but is also sweet to an extent.

maiN bujh gayaa to hameshaa ko bujh hii jaauungaa
koii chiraaG nahiiN huuN ki phir jalaa legaa

Critics have largely ignored Waseem Barelvi but for masses he is a great poet. Read his ghazal at Best Urdu Ghazals and Nazms

Indscribe

6 Responses

  1. مہدی علی……..تیری یاد آئی
    شاہدالاسلام
    دبستان عظیم آباد کے شعری کائنات کو انوار نشیمن میں تبدیل کرنے والے بزرگ اور مربی شاعر پروفیسر مہدی علی کی زندگی کا چراغ تو گل ہوگیا لیکن
    تیرے جانے کے بعد تیری یاد آئی
    کے مصداق ان کی مرنجان مرنج شخصیت کے انمٹ نقوش ہمیں اس با ت کے لیے مجبور کر رہے ہےں کہ ان کی شاعرانہ خدمات کوصفحہ قرطاس پرلاکرمرحوم کی ادبی خدمات کا احاطہ کیا جائے تاکہ شعرو ادب سے والہانہ لگاو¿ رکھنے والے اس قلندرکو خراج عقیدت پیش کرنے کا اخلاقی فرض بھی ادا ہو اور صاحبان ذوق حنائی لطف کا حظ بھی اٹھاسکیں۔
    پروفیسر مہدی علی کی شاعرانہ زندگی کم وبیش 50 سالوں پر محیط ہے۔ انہوں نے شعر گوئی کا باضابطہ آغاز 1957سے کیا اورنصف صدی کے اپنے اس سفر کے دوران انہوںنے شاعری کے جملہ اسرار و رموز سے شناسائی حاصل کی، شعری کائنات کو زماںو مکاں کے حدود و قیود سے پوری طرح آزادی بخشی،وسیع تر تجربات و مشاہدات کی جولانگاہ بناکر اپنی شاعری کے ذریعہ موسیقی کا جام چھلکایااور تغزل کے حسن سے اپنی غزلوں میں نئی روح پھونکی۔فن و فکر کے حسین امتزاج کے سہارے معرض وجود میں آنے والی مہدی علی کی شاعری کا دائرہ یوں تو مختلف اصناف سخن کا احاطہ کرتی ہے لیکن بنیادی اعتبار سے وہ غزل کے شاعر تھے۔ انہوں نے اس فن لطیف میں غنائیت کی گلکاری کے ذریعہ اپنی قادر الکلامی کا بہترین نمونہ پیش کیا۔
    موصوف پیشہ کے اعتبار سے زبان انگریزی کے پروفیسر تھے اور مدرسی کو وجہ روزگاربنایا۔ شاعری انہیں ورثہ میں ملی تھی جو ملک الموت کی آمد سے قبل تک ان کی سرشت کا حصہ بنی رہی۔
    بنیادی اعتبار سے غزلوں کے ذریعہ فن لطیف کی آبیاری کرنے والے پروفیسر مہدی علی نے نظمیں بھی کہیں اور قطعات بھی قلم بند کیے لیکن جو ملکہ انہیں غزلیہ شاعری میں حاصل تھی اس نے انہیں کمال فن سے آراستہ کیا اورشرف استادی سے بھی متصف کیا۔ یہی وجہ ہے کہ اصلاح سخن لینے والوں کی جماعت ہمیشہ مہدی علی کے گرد حالہ بنائے رہا کرتی تھی۔کیا نو آموز اور کیا پختہ گو شعرائ،سبھی مہدی علی کی محفل کا حصہ ہواکرتے۔ سیکڑوں شعراءکی استادی کا شرف حاصل ہونے کے باوجود انہوں نے کبھی بھی اس بات کا دعویٰ نہیں کیا کہ شاعری میں انہیں کمال عرفان حاصل ہے۔وہ کہتے ہیں:
    پتہ نہیں مرا جوہر کبھی کھلا کہ نہیں
    تمام عمر مگر ہم نے شاعری کرلی
    کہا جاسکتا ہے کہ ان کی شاعری کا سفر ترقی پسندی کے عہد سے شروع ہوکر مابعد جدیدیت کے بجھتے چراغ کے درمیان آنے جانے والے تمام ترادبی رجحانات سے سرمو انحراف کرتا ہوا انجام کو پہنچا۔ہر چند کہ ادبی تحریک سے لے کر رجحانات تک کے سفر کے درمیان توقف کے ساتھ انہوں نے اپنے عہد سے معمولی اثر قبول کیا لیکن نہ تو وہ ترقی پسند شاعروں کی صف میں کھڑے ہوئے اور نہ ہی جدیدیت کا علم بلند کیا۔نئے ادبی رجحان کی زوال پذیری اورمابعد جدیدیت کی بشارت سنانے والوں کابھی کچھ حد تک انہوںنے خیال رکھا جس کا اظہار ان کے بعض اشعارسے ہوتا ہے لیکن سچی بات یہ ہے کہ فطری شاعری کے تقاضوں کو برتتے ہوئے انہوں نے کلاسیکیت اور رومانیت کی راہ داریوں سے گزر کر شاعری کی ایک ایسی دنیا آباد کی جوحکیمانہ، فلسفیانہ اورلطیفانہ شاعری کا مجموعہ بن کر نمودار ہوئی۔بطور نمونہ چند اشعار ملاحظہ فرمائیں۔
    رگ دل ٹوٹتی ہے تب کہیںاک شعر ہوتا ہے
    کسی کو ہائے یہ احساس اے مہدی کہاںہوگا
    ……..
    بتارہی ہے یہ تیری نظر کی حیرانی
    کہ میںمرقع صد انقلاب ہوںاے دوست
    ……..
    ہر تار نظر چھڑے ہے اک ساز محبت
    ہر جنبش مژگاںکوئی فسانہ کہے ہے
    ……..
    یوںمیکدے کا راز سنبھالے ہوئے ہیںہم
    دل کا لہو نچوڑکے ڈھالے ہوئے ہیںہم
    ……..
    وہ رات جس میںڈوب گئی نبض کائنات
    ایسی سیاہ رات بھی ٹالے ہوئے ہیںہم
    ……..
    میرے تلووںکا لہو چوسنے والے کانٹو
    کیا کوئی اور نہیںہے آبلہ پا میرے بعد
    ……..
    پارسائی بھی نچھاورمری توبہ بھی نثار
    زیب دیتا ہے تجھے دشمن ایماںہونا
    ……..
    تو نے اے موج سفینے کا اڑایاہے مذاق
    جب ڈبویا بھی نہیںپار اتارا بھی نہیں
    ……..
    تھی زباںپہ بندش بھی ہونٹ پر بھی پہرے تھے
    کہہ گئی مگر سب کچھ میری چشم نم تنہا
    ……..
    دبستان عظیم آبادکونئے شعری پیکر عطا کرنے والے چند ممتاز شاعروں کے درمیان پروفیسر مہدی علی کی شخصیت تمام تر انفرادیت کے باوجود سخن برائے زندگی کی ترجمانی کرتی رہی جس کا اظہار انہوںنے یوں کیا ہے:
    سخن برائے سخن ہی نہیںکچھ اور بھی ہے
    اسی لیے تو متاع نظر رہی ہے غزل
    اپنی رحلت سے چند روز قبل اردو فورم مونگیر کے مجلہ کی اشاعت کے تعلق سے فورم کے رکن محترم قیصر اقبال کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انہوں نے سنجیدہ شاعری کے تعلق سے جن مشاہیر ادب اور معتبر شعراءکے اثرات قبول کرنے کا ذکر کیا اس میں بطور خاص شاد عظیم آبادی، علامہ جمیل مظہری اور فیض احمد فیض کا تذکرہ شامل ہے۔وہ کہتے ہیں کہ میں نے شاد عظیم آباد ی کو بہت احترام، اہمیت اور خصوصیت کے ساتھ پڑھا ۔اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ وہ میرے اباّ حضور سید فضل علی افضل کے استاد شاعر تھے، دوسری وجہ یہ ہے کہ ان کے کلام میں بلا کا سود وگداز، شیریں بیانی، فکری عمق اور میرے لیے سب سے بڑھ کر یہ کہ شیعیت کے اجزائے فکری نے مجھے بہت متاثر کیا۔
    پروفیسر مہدی علی مسلکی اعتبارسے اہل تشیع تھے لہٰذا انہوں نے فطری طور پر مرثیے بھی رقم کیے۔ غزلوں کے بعض اشعار میں بھی موضوعاتی نقطہ نگاہ سے مراثی کے اسلوب نمایا ںدیکھنے کو ملتے ہیں ۔پروفیسر مہدی علی نے طنزو مزاح کی وادی میں بھی سیر کرنے کا شوق پال رکھا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ سنجیدہ شاعری کے دوران انہوں نے بعض ایسے اشعار بھی کہے ، جوقارئین کوزیرلب تبسم پر مجبور کردیتے ہیں مثلاً:
    ہے خبر گرم کہ بیوہ کا پھر نکاح ہوا
    لٹی دکان کا دوبارہ افتتاح ہوا
    ……..
    یہ مانا آپ کو تخلیق کا جوہر دکھانا تھا
    مگر ہرکوٹھری کو کیوں زچہ خانہ بناڈالا
    ……..
    خیرات حسن مانگا تو کہنے لگی وہ شوخ
    سید ہیں آپ آپ پر صدقہ حرام ہے
    ……..
    شاعری سے پروفیسر مہدی علی کوفطری لگاﺅ تھا اور ایک حادثاتی واقعہ کے تحت انہوں نے وزن وبحر کا خیال رکھے بغیر شاعری کا آغاز کیا۔ وہ کہتے ہیں کہ حادثہ یوں پیش آیا کہ گھر کے ایک ملازم عبداللہ کے بازار سے تیل نہ لانے پر میری خالہ جان میری والدہ سے الجھ پڑیں اور بات اتنی بڑھی کہ گھر کا چولہا بٹ گیا۔ اس کیفیت کی ترجمانی دراصل ان کی شاعری کا پہلا نمونہ تھا جسے ملاحظہ فرمائیے:
    تیرہویں تاریخ کی منحوسیت سنئے ذرا
    واقعہ اس روز کا پیش نظر ہے آج تک
    ……..
    کہ مسٹر عبداللہ نے لایا نہ تھا سرسوں کا تیل
    بات بس اتنی سی تھی اور پھر جاتا رہا گھر بھر کامیل
    ……..
    میری خالہ تل گئیں ایک جنگ کرنے کے لیے
    صرف ہم لوگوں کو تھوڑا تنگ کرنے کے لیے
    ……..
    کھینچا تانی میں میرا ململ کا کرتا پھٹ گیا
    پھٹ گیا کرتا مگر چولہا بھی گھر کا بٹ گیا
    ……..
    مہدی علی کی شاعری میں تغزل کی فکری روایات کا پرتو خوب خوب دیکھنے کو ملتا ہے۔ تغزل کو انہوں نے بے پناہ صحت کے ساتھ برتتے ہوئے اپنی شاعری کو اوج ثریا پرپہنچانے کی کوشش کی، نتیجہ یہ ہوا کہ رومان اور حقیقت کے مجموعے کی شکل میں ایک ایسی شاعری منصہ شہود پر آئی جسے ترقی پسندی اور جدیدیت کی آویز ش کا نام دیاجاسکتا ہے مثال کے طور پر چند اشعار ملاحظہ فرمائیں:
    کہو یہ رات کی تاریکیوں سے تھم جائیں
    ابھی یہ سایہ¿ زلف سیاہ کیا کم ہے
    ……..
    سونی پڑی ہوئی ہے میری بزم آرزو
    اے پیکر خیال تجھے بھی خیال ہے
    ……..
    اپنی آغوش تخیل میں بلاﺅں گا ضرور
    میں ہوں مجبور تصور مرا مجبور نہیں
    ……..
    مہدی ابھی یہ عرض تمنا بھی کیا کریں
    بیٹھے ہوئے ہیں شرح تمنا لیے ہوئے
    ……..
    کاش ان آنکھوں میں بھی ہم اپنا آنسو دیکھتے
    جو رنگ حنا ہے وہ خون دل مہدی ہے
    ……..
    تخیل کی بلند پروازی سے ہوتا ہوا مہدی علی کی شاعری کاسفر حکےمانہ راہدارےوں سے بھی گزرتا ہے اور علم ودانش کی اےسی باتےں بھی کہہ جاتا ہے جسے خاصے کی چےزتصور قراردیا جاسکتا ہے۔ مثلاً:
    اےک عالم عبرت ہے کہنے کو نشےمن ہے
    تنکو ںکی ےہ دنےا ہے امےد کا خرمن ہے
    ……..
    مےرا بھی گلستاں ہے جو آپ کا گلشن ہے
    عجےب جبر مشےت مری حےات بھی ہے
    ……..
    ےہ کہئے ہم نے خود ضبط کی زنجےر پہنا دی
    فلک کچھ دور کب تھا مرے نالوں کی رسائی سے
    ……..
    قفس کو ہم اسےرو ں نے نشےمن کہہ دےا آخر
    چلو پےچھا چھٹا اب تو تمنائے رہائی سے
    ……..
    ممتاز تنقید نگار پروفیسر وہاب اشرفی نے پروفیسر مہدی کی شاعری پرکچھ یوں روشنی ڈالی ہے۔:
    ”اب تک پروفےسر مہدی علی کے دوخالص ادبی شعری مجموعے ’برگ حنا‘ اور ”رنگ حنا“ اشاعت پذےر ہوچکے ہیں۔ دونوں مجموعوں کا آخری لفظ”حنا“ ان کے اپنے نام کی طرف راجع کرتا ہے۔ گوےا حنا سے لازماً ان کی وابستگی ہے اور اس سے ازخودرومانی اور عشقےہ کےف کا احساس ہوتا ہے۔ مذکورہ دو مجموعوں کے علاوہ”پروانہ¿ نجات“ اور” کشت حنا“ موصوف کے مذہبی عقےدے اور جذبہ¿ عقےدتمندی کے اظہار کے آئےنہ دار ہےں۔ ان کے کلام کے سرسری مطالعے سے ےہ واضح ہوجاتاہے کہ ہردو عشق کے کےف وکم اور ان کی بعض جہتےں ان کے کلام کی کلےد ہےں۔“
    پروفےسر مہدی علی نہ صرف ےہ کہ عظےم آباد کے منفرد شعراءمےں شمار کئے جاتے ہےں بلکہ ادب سازی کے تعلق سے بہار کی سطح پر لاثانی شخصیت بھیقرارپاتے ہیںکےونکہ انہوں نے خصوصی دلچسپی کے تحت ”اردو فورم “نامی اےک اےسی ادبی انجمن قائم کی جو اپنی انفرادیت کی وجہ سے ملک گےر پےمانے پر نماےاں مقام رکھتی ہے۔ پےشہ سے معلم ہونے کی وجہ سے موصوف نے زندگی کی 44بہارےں مےر قاسم کی نگری مونگےر مےں گزاریں۔ آرڈی اےن ڈی ڈی کالج مےں بطور پروفےسر(انگرےزی) اپنی خدمات انجام دیئے ،سبکدوشی کے بعد بھی انہوں نے مونگےر مےں ہی زندگی کے تقرےباً آخری اےام تک سکونت اختےار کےا۔جس زمانے مےں موصوف کا ےہاںورود مسعود ہوا تھا،اس وقت ادب نوازوں کی جمعےت بکھری بکھری سی دکھائی دے رہی تھی۔نہ تو کوئی ادبی انجمن تھی اور نہ ہی شعروشاعری کی مجلسےں باضابطہ آراستہ ہوا کرتی تھےں۔ پروفےسر مہدی علی نے ےہ بات نوٹ کی اور اےک ادبی فورم کے قےام کے لےے اول اول انہوں نے ادب نواز حلقوں سے راہ ورسم بڑھاےا ۔ اہل ذوق کی کمی نہ تھی چنانچہ دل کی مراد بر آئی اور وہ موقعہ آہی گےا جب” اردو فورم“ کے نام سے اےک ادبی انجمن کا قےام عمل مےں آےا۔25جولائی1971 کی تارےخ بہار کی ادبی انجمنوں کے لےے تارےخ ساز موقعہ سے کم نہےں جس دن معروف عالم دےن مولانا منت اللہ رحمانی کی موجودگی مےں اردو فورم نامی ادبی تنظےم کی داغ بےل ڈالی گئی۔ پروفےسر مہدی علی نے فورم کے قےام سے لے کر 1998تک تقرےباً27سال کی طوےل مدت تک بحےثےت کنوےنر اپنے فرائض انجام دےئے۔حالانکہ’ اردو فورم‘ نامی ادبی انجمن کی بنےاد مقامی سطح پر رکھی گئی تھی جس کے اراکےن مےں اکثرےت کا تعلق شہر مونگےر سے تھا لےکن بعض بےرونی صاحبان ادب نے بھی اس انجمن سے والہانہ لگاﺅ قائم رکھاجن مےںعلامہ جمےل مظہری، خواجہ احمد عباس اور جسٹس آنند نارائن ملا جےسی عبقری شخصےتےں شامل تھی۔ےہ وہ صاحبان ادب ہےں جنہوں نے بےن الاقوامی سطح پر اردو شاعری مےں اپنا سکہ رائج کےا اوران کی ادبی خدمات کو سند کا درجہ حاصل ہوا۔
    اردو فورم کی تشکیل کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے پروفیسرمہدی علی کی شاعری یوں گویا ہوئی:
    اردو فورم کےا ہے؟
    اپنا فورم ہے رفےقوں کا گروہ
    مشفقوں اور شفےقوں کا گروہ
    ……..
    نہ تو ےہ جادہ¿ گمراہی ہے
    نہ تو ےہ شغل ہوا خواہی ہے
    ……..
    ےار کا گےسوئے پےچاں ہے ےہ
    شوق کا سلسلہ جنباں ہے ےہ
    ……..
    دل ماےوس کی امےد ہے ےہ
    شب تارےک مےں خورشےد ہے ےہ
    ……..
    دل فرہاد کی کاہش کہےے
    دودھ کی نہر کی کوشش کہےے
    ……..
    سب کے سب اس مےں برابر بھی ہےں
    ہم نشےں بھی ہےں برادر بھی ہےں
    ……..
    اس مےں سب پےروجواں ےکسا ں ہےں
    اس مےں سب خوردوکلاں ےکساں ہےں
    ……..
    سب ہی دل پھےنک ہےں سودائی ہےں
    سب ہی اردو کے تولائی ہےں
    ……..
    قابل رشک ہے نظم فورم
    قابل دےد ہے بزم فورم
    ……..
    اس مےں کچھ لذت گفتار بھی ہے
    اس مےں کچھ جرا¿ ت اظہار بھی ہے
    ……..
    لذت کام ودہن ہوتی ہے
    اردو موضوع سخن ہوتی ہے
    ……..
    آئےنہ صاف ہے حےرت کےسی؟
    اس جگہ گرد کدورت کےسی؟
    ……..
    پروفےسر مہدی علی کی شخصےت کو تےن زاوےہ¿ نگاہ سے دےکھا اور پرکھا جاسکتا ہے ۔اولاًان کی شاعرانہ زندگی، جس کا مختصراً جائزہ لےنے کی ابتداءمےں ہی کوشش کی گئی ہے۔دوئم ان کی ادب نوازی اور ادب سازی، جس کا ابھی ابھی ذکر ہوا ہے۔
    موصوف کی شخصےت کا اےک پہلو ان کی ذاتی شخصےت سے متعلق ہے جوان کی انسانےت نوازی،کمال استادی اور افراد سازی سے عبارت ہے۔ آےئے ےہ جاننے کی کوشش کرےں کہ موصوف اس حوالے سے کس قدر بالغ فکر واقعے ہوئے ہےں۔
    پروفےسر مہدی علی کا پورا نام مہدی علی خاں شےخ پوروی ہے۔ 29مارچ1931کو انہوں نے اس دنےا ئے فانی مےںآنکھےں کھولیں۔ رےشم نگری باگلپور مےں پےدا ہوئے۔ ابتدائی تعلےم ےہےں حاصل کی ۔بی اے کی ڈگری ٹی اےن بی کالج بھاگلپور سے حاصل کی البتہ اےم اے(انگرےزی) پٹنہ ےونےورسٹی سے پاس کرنے کے بعد نومبر1954مےں بحےثےت لکچرار مونگےر کے آرڈی اےنڈ ڈی جے کالج مونگےر میںتقرری عمل مےں آئی۔گوےا وطن اصلی شےخ پورہ ہونے کے باوجود وطن مولود بھاگلوپور قرار پاےا لےکن عملی دنےا انہوں نے مونگےر مےں آباد کےا۔تقرےباً44سال ےہاں قےام پذےر رہے۔ ادب نوازوں کا اےک بڑا حلقہ تےار کےا اردو فورم کی شکل مےں ادبیپودہ لگایا جواب ایک تناور درخت کی صورت میں جلوہ بار ہے جس مےںشہر کی تمام چنندہ ادبی شخصےتےں گوےا اےک طرح سے جمع ہوگئیں۔کےا بچے کے بوڑھے کےا جوان ہر کوئی پروفےسر مہدی علی کی خلاقی کا معترف تھا۔ےہی وجہ ہے کہ جب انہوں نے44سال بعد مونگےر کو الوداع کہنا چاہااور اپنے صاحبزادے کی خواہش کی تکمےل کے تحت عظےم آباد کو مسکن بنانے کا سخت فےصلہ لےا توان کی آنکھےں اس بات کی گواہی دے رہی تھےں کہ وہ اےک اےسی جگہ کو خےر آباد کہہ رہے ہےں جو وطن نہ سہی،وطن جےسا ضرورتھا۔
    بہرحال پروفےسر مہدی علی رحلت کو اردو شاعری کا نقصان عظےم قرار نہ دےنے کی کوئی گنجائش نہےں جنہوں نے شاعری کو کبھی پےشہ نہےں بناےا بلکہ اسے عبادت کے درجے مےں رکھا۔ حالانکہ اگر موصوف چاہتے تو ان کی شاعری سےاست کے اکھاڑے مےں خوب خوب جلوے دکھا سکتی تھی کےونکہ پروفےسر جابر حسےن جیسی شخصےت کو ان کے داماد ہونے کا شرف حاصل تھا جو بہار کی سطح پر نہ صرف ےہ کہ ممتازسےاستدانوں مےں شمار کئے جاتے ہےں بلکہ قومی سطح پر بھی مسلم دانشوروں اور سےاستدانوں کی صف مےں انہےں نماےاں مقام حاصل ہے۔ لہذا اگر پروفےسر مہدی علی چاہتے تو ان کی شاعری سےاسی استعمال کا بہترےن ذرےعہ بن سکتی تھی لےکن موصوف نے اسے شجر ممنوعہ بنا رکھا تھا اور خود جابر صاحب نے بھی اس بات کا بھر پور خےال رکھا کہ کہ پروفےسر مہدی علی سے لگاﺅکا کہےں اےسا اظہار نہ ہو جس سے ان کی شخصےت داماد کی شخصےت کے حوالے سے جانی وپہچانی جائے۔ےہی وجہ ہے کہ ”برگ حنا “اور ”رنگ حنا“کا مصنف نصف صدی پر محےط اپنی شاعری کا بڑاسرمایہ چندبوسےدہ ڈائرےوں مےں چھوڑ کر ہمےشگی کی نےند سوگےا اور بہتوں کو اب تک ےہ خبر نہ ہوسکی کہ مہدی علی کی شاعری کس پائے کی تھی اور انہوںنے دبستان عظیم آباد کے وقار و اعتبارکو اپنے سرمایہ¿ علمی سے کس طرح ذرخیزی عطاکی ہے۔بہرحال کچھ حد تک طمانیت کا احساس یوں ہو جاتا ہے کہ پروفیسر موصوف شاعرانہ خدمات کے اعتراف کی توفیق ’اردو فورم‘ مونگیر کو ان کی رحلت چند ماہ قبل ہوئی اور باوجود اس کے کہ داخلی رکاوٹوں کے باوجودفورم کے کنوینر محترم ڈاکٹر سہیل نے سخت فیصلہ لیتے ہوئے ادارہ کے ترجمان رسالہ ’ورق در ورق‘ کو مہدی کے نام وقف کیا اور ان کی خدمات جلیلہ کا کسی طور اعراف کیا گیااوردیر آید درست آید کے مصداق ’اردو فورم‘نے اپنے بانی کنوینر کو خراج تحسین پیش کیا۔
    اب جبکہ مہدی صاحب نہیں رہے یاتوان کی یاد باقی ہے یا پھر ان کا کلام۔ ضرورت اب اس امر کی ہے کہ دبستان عظیم آباد کے صاحبان نقد آگے آئیںاوران کی تخلیقی کا وشوں کا مکمل احاطہ کرتے ہوئے شاعر مرحوم کی خدمات کا ایماندارانہ تجزیہ کرتے ہوئے ادب میں ان کے مقام و مرتبہ کا تعین کریں کیونکہ محسن شاعر کی روح یقینااس سے خوشی محسوس کرے گی۔اللہ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے اور پسماندگان کو صبر جیل کی توفیق بخشے۔آمین

  2. mujhe vaseem bhai ki tarif kar ne k liye

    alfaaz nahi milte

  3. Can someone tell me from where I can get Waseem sb.’s book.

    I am trying to get his poetry books for last many years but could lay hands on only on book Änkh aansu hui”.

    Atif

  4. greaaaaaaaaaaaat

  5. maiN uskaa ho nahiiN saktaa bataa na denaa use
    sunegaa to lakiireN haath kii apne voh sab jalaa legaa

    hazaar toD ke aa jaauuN us se rishtaa Wasim
    maiN jaantaa huun vo jab chaahegaa bulaa legaa

    wah wah kiya likhte hain kiya parhte hain ajab andaz hai hamko to deewana bana rakha hai ..waseem saheb a great urdu poet I love him. give his email and phone no i want to buy his all books.hanks

  6. maine abhi comment jo bheja usmain email main error
    hai mera email hai sana.taqvi@gmail.com

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: