Remembering Mohsin Bhopali

munhasir ahl-e-sitam par hii nahiiN hai Mohsin
log apnoN kii inaayat se bhii mar jaate haiN

jurrat-e-fuGhaaN kaisii, aapse shikaayat kyaa
saaNs le rahe haiN hum, aapkii navaazish hai

unke vaa’de takallufan hii sahiiH
phir bhii ham etbaar karte haiN

(Mohsin Bhopali)

mohsin-bhopali.gif

(This is a tribute to the poet published in an Indian newspaper, Inquilab).

Indscribe

4 Responses

  1. لو آج’خالق آہنگ‘ہوگیا خاموش
    خراج عقیدت
    شاہدالاسلام
    اردو شاعری پر موت کا سایہ ہے یا اردو کے شاعروں پر؟اس سوال پر بحث و تمحیص کا در وا کرنے والے بر صغیر کے ممتاز شاعر محسن بھوپالی تو نہیں رہے لیکن ان کی موت بجائے خود اس سوال کو حل کرگئی کہ اعلیٰ پائے کے شاعر اوربے نظیر شاعری دونوں پا بہ گور ہوتے جارہے ہےں۔سال2006کے نصف اول میں اردو کے بڑے شاعروں اور ادیبوںکی موت کا جو سلسلہ احمد ندیم قاسمی کی رحلت کے ساتھ شروع ہوا اس سلسلے کی کڑی میں محسن بھوپالی نے بھی اپنا نام شامل کرلیا اور اس طرح بحث کے اس باب کو بند کرنے کی گویادعوت بھی دے ڈالی کہ اردو کے شاعروں کا قافلہ اپنا سرمایہ ¿ ادب نکمے دانشوروں اور کم ظرف ناقدوں کے سامنے چھوڑتا ہوا دائمی آرام گاہ کی جانب گامزن ہے۔
    محسن بھوپالی کی شاعری کے قدردان اکیسویںصدی کے قحط الرجال کے دور میں کہاں ملنے والے ہیں؟جبکہ ادب نوازوں کی پوری کی پوری کھیپ تمام تر بے ادبی کو روا ہی نہیں رکھے ہوئے ہے بلکہ ان کی ادبی بساط تمام تر عیاریوں اور مکاریوں کا سرچشمہ قرار پارہی ہیں۔چند اختصاص کو چھوڑ کر آج کی اردو شاعری کی کائنات اس کلیے پر ایمان رکھتی ہے کہ ’من ترا حاجی بگوئم تو مرا حاجی بگو‘کہتے جاﺅ اور جھومتے جاﺅ۔محسن بھوپالی اردو ادب کی اس روش سے حد درجہ نالاں اور افسردہ تھے۔ انہیں عظمت فن کی دستاری ورثے میں ملی تھی اور اس کی امانت کو وہ زندگی بھر مقدم ٹھہراتے رہے۔ یہی وجہ رہی کہ ایک بڑا طبقہ محسن بھوپالی سے افسردہ خاطر تھا اور کج کلاہی کا کوئی موقع ضائع کرنا نہیں چاہتا تھا۔ باوجود ان تمام کوششوں کے محسن بھوپالی کے پایہ ¿ استقلال میں ذرہ برابر بھی جنبش دیکھنے کو نہیں ملی۔ موصوف اردو شاعری کی اس روایت کو برتنے کے سختی سے قائل رہے کہ شاعری اپنے مخصوص فنی محاسن کے ساتھ کی جائے بصورت دیگر شاعری کوحرام کے درجہ میں جگہ دی جائے۔ شاعر مرحوم کا یہ شعر:
    اگر ےہی ہے شاعری تو شاعری حرام ہے
    خرد بھی زےر دام ہے جنوں بھی زےر دام ہے
    اسی نظریے کو مہمیز بخشتا ہے۔ فن پر بالغ نظری ان کی شاعری کا سرچشمہ تو تھا ہی اوروں کے لیے بھی وہ یہی مشورے دیتے رہے کہ صاحبو اس ملکہ کو حاصل کرو ورنہ وادی شعر وادب کو تیاگ دو۔محسن کا یہ شعر اسی کیفیت کو ظاہرکرتا ہے:
    عظمت فن کے پرستار ہیں ہم
    یہ خطا ہے تو خطا وار ہیں ہم
    محسن بھوپالی 1932 میں بھوپال میں پیدا ہوئے ۔ قیام پاکستان کے بعد ان کاکنبہ نقل مکانی کرکے لاڑکانہ منتقل ہوگیا اور کچھ عرصے کے بعد حیدرآباد میں رہائش اختیار کی۔ آخر میں وہ کراچی منتقل ہوگئے تھے جہاںانہوں نے زندگی کے کئی اہم نشیب و فراز سے معرکہ آرائی کی اور آخرکارکل انہوں نے آخری ہچکی لی۔مرحوم کی دس اہم نگارشات منظر عام پر آئیں اور انہیں اعتبار عام اور قبولیت دوام حاصل ہوا۔ ان کی شاعری کا پہلا مجموعہ ’شکست شب1961 میں منظر عام پر آیا۔ دیگر مجموعہ ہائے کلام میں ’گرد مصافت‘ ، ’جستہ جستہ‘ ، ’نظمانے‘ اور ’ماجرہ‘ کو کلیدی حیثیت حاصل ہے۔محسن کی شاعری میں ادب اور معاشرے کے گہرے مطالعے کا عکس نظر آتا ہے۔کہنا غلط نہ ہوگا کہ انہوں نے اپنی شاعری کی دنیا آباد کرتے ہوئے کسی مخصوص صنف ادب تک خود محدود نہیں رکھا بلکہ مختلف اصناف ادب میں کامیاب طبع آزمائی کی اور موضوعاتی نقطہ ¿ نگاہ سے اردو شاعری کی اس روایت کو تنوع بخشنے کی بہرطور کوشش کی جس کی بنیاد میرو مومن اور غالب و اقبال نے رکھی تھی۔ان کے یہاںعشق مجازی سے لے کر عشق حقیقی تک کی جلوہ سامانی بخوبی دیکھنے کو ملتی ہے۔موصوف کی غزلوں میں ایسی ہی گلکاری دیکھنے کو ملتی ہے۔بطور نمونہ چند اشعار نذر قارئین کرنا بے محل نہ ہوگا:ع
    پہلو میں دل ہو اور دہن میں زباں نہ ہو
    میں کیسے مان لوں کہ حقیقت بیاں نہ ہو
    …………
    میرے سکوتِ لب پر بھی الزام آگئے
    میری طرح چمن میں کوئی بے زباں نہ ہو
    …………
    سوزِ دل و گدازِ جگر معتبر نہیں
    جب تک غم حبیب غم دو جہاں نہ ہو
    …………
    ہم نے اپنے خوں سے جلائی تھیں مشعلیں
    ہم سے تو اے نگارِ سحر بدگماں نہ ہو
    ……..
    محسن ہمارے طرزِ تکلم کی بات ہے
    ہر شخص سوچتا ہے مری داستاں نہ ہو
    محسن کی شاعری کا حسن یہ بھی ہے کہ ان کے بعض اشعار زبان زدعام ہی نہیں ہوئے بلکہ انہیں سند کا درجہ بھی دیا گیا۔قیام پاکستان کے بعد مملکت خداداد کے وجود کے تعلق سے کریڈٹ لینے والے بے ضمیر سیاست دانوں کی خبر لینے کا معاملہ ہو یا اغیار کے سامنے زانوئے ادب تہہ کرنے کی صاحب اقتداراحباب کی حکمت عملیاں،محسن صاحب شاعری کے ذریعہ جہاد جاری رکھنے سے کبھی پیچھے نہیں ہٹے۔یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری میںحقیقت حال پر تلخ تاثر دیکھنے کو ملتا ہے۔ع
    نیرنگی ¿ سیاست دوراں تو دیکھئے
    منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے
    …………
    ہم مصلحت وقت کے قائل نہیں یارو
    الزام جو دینا ہو، سر عام دیا جائے
    …………
    ہوس کا نام عشق ہے طلب خودی کا نام ہے
    نظر اداس، دل ملول، روح تشنہ کام ہے
    …………
    ادھربھی سربکف میں ہوں ادھربھی صف بہ صف میں ہوں
    میں کس کا ساتھ دوں اس جنگ میں دونوں طرف میں ہوں
    …………
    وہ وقت آیا ہے محسن گرگیا ہوں اپنی نظروں سے
    بتایا جارہا تھا مجھ کو شایانِ سلف میں ہوں
    محسن بھوپالی نے غزل کے توسط سے فکر و فن کا جدو تو جگایا ہی،نظموںکے ذریعہ بھی انہوںنے اہل ذوق کو کم لطف اندوز نہیں کرایا۔جاپانی ادب کا اردو میں ترجمہ کیا اور ہائیکو میں بھی طبع آزمائی کی۔ ’خالق آہنگ‘کا مصنف بھلے ہی کسی اور چراغ کے گل ہوجانے پر اپنے شعری جذبات کا اظہار کرگیا ہو،مگر حق یہ ہے کہ ان کے یہ اشعار خودان کی شخصیت کیلئے حرف بہ حرف صادق آتے ہیں۔ع
    لو ایک اور ستارا خلا میں ڈوب گیا
    لو آج ” خالق آہنگ“ ہوگیا خاموش
    اُداس اُداس شبستاں ہیں میکدے ویراں
    عجیب شب کی نگاہیں تلاش کرتی ہیں
    کہاں گیا ری زلفیں سنوارنے والا
    فضائے دہر میں روپوش ہوگیا ہے کہاں
    دیارِ حسن پہ شب خون مارنے والا
    جواں دلوں کی اُمنگوں کو انتظار سا ہے
    بچھڑنے والا بچھڑ کر بھی ملنے آئے گا
    وہ پھول بادِ خزاں جس کو کرگئی برباد
    بہار میں وہ کلی بن کے مسکرائے گا
    ہمارے ولولے زندہ ہیں جس کے شعروں سے
    ہم اس کی یاد میں آنکھوں کو نم نہیں کرتے
    ہزاروں دیپ جلا کر جو آپ بجھ جائے
    ہم اُس چراغ کے بجھنے کا غم نہیں کرتے
    محسن صاحب کو بجھنے والے کسی چراغ کا غم بھلے نہ ہو،ہمیں محسن اردو کے گزر جانے کا غم ضرور ستاتارہے گا۔

  2. لو آج’خالق آہنگ‘ہوگیا خاموش
    خراج عقیدت
    شاہدالاسلام
    اردو شاعری پر موت کا سایہ ہے یا اردو کے شاعروں پر؟اس سوال پر بحث و تمحیص کا در وا کرنے والے بر صغیر کے ممتاز شاعر محسن بھوپالی تو نہیں رہے لیکن ان کی موت بجائے خود اس سوال کو حل کرگئی کہ اعلیٰ پائے کے شاعر اوربے نظیر شاعری دونوں پا بہ گور ہوتے جارہے ہےں۔سال2006کے نصف اول میں اردو کے بڑے شاعروں اور ادیبوںکی موت کا جو سلسلہ احمد ندیم قاسمی کی رحلت کے ساتھ شروع ہوا اس سلسلے کی کڑی میں محسن بھوپالی نے بھی اپنا نام شامل کرلیا اور اس طرح بحث کے اس باب کو بند کرنے کی گویادعوت بھی دے ڈالی کہ اردو کے شاعروں کا قافلہ اپنا سرمایہ ¿ ادب نکمے دانشوروں اور کم ظرف ناقدوں کے سامنے چھوڑتا ہوا دائمی آرام گاہ کی جانب گامزن ہے۔
    محسن بھوپالی کی شاعری کے قدردان اکیسویںصدی کے قحط الرجال کے دور میں کہاں ملنے والے ہیں؟جبکہ ادب نوازوں کی پوری کی پوری کھیپ تمام تر بے ادبی کو روا ہی نہیں رکھے ہوئے ہے بلکہ ان کی ادبی بساط تمام تر عیاریوں اور مکاریوں کا سرچشمہ قرار پارہی ہیں۔چند اختصاص کو چھوڑ کر آج کی اردو شاعری کی کائنات اس کلیے پر ایمان رکھتی ہے کہ ’من ترا حاجی بگوئم تو مرا حاجی بگو‘کہتے جاﺅ اور جھومتے جاﺅ۔محسن بھوپالی اردو ادب کی اس روش سے حد درجہ نالاں اور افسردہ تھے۔ انہیں عظمت فن کی دستاری ورثے میں ملی تھی اور اس کی امانت کو وہ زندگی بھر مقدم ٹھہراتے رہے۔ یہی وجہ رہی کہ ایک بڑا طبقہ محسن بھوپالی سے افسردہ خاطر تھا اور کج کلاہی کا کوئی موقع ضائع کرنا نہیں چاہتا تھا۔ باوجود ان تمام کوششوں کے محسن بھوپالی کے پایہ ¿ استقلال میں ذرہ برابر بھی جنبش دیکھنے کو نہیں ملی۔ موصوف اردو شاعری کی اس روایت کو برتنے کے سختی سے قائل رہے کہ شاعری اپنے مخصوص فنی محاسن کے ساتھ کی جائے بصورت دیگر شاعری کوحرام کے درجہ میں جگہ دی جائے۔ شاعر مرحوم کا یہ شعر:
    اگر ےہی ہے شاعری تو شاعری حرام ہے
    خرد بھی زےر دام ہے جنوں بھی زےر دام ہے
    اسی نظریے کو مہمیز بخشتا ہے۔ فن پر بالغ نظری ان کی شاعری کا سرچشمہ تو تھا ہی اوروں کے لیے بھی وہ یہی مشورے دیتے رہے کہ صاحبو اس ملکہ کو حاصل کرو ورنہ وادی شعر وادب کو تیاگ دو۔محسن کا یہ شعر اسی کیفیت کو ظاہرکرتا ہے:
    عظمت فن کے پرستار ہیں ہم
    یہ خطا ہے تو خطا وار ہیں ہم
    محسن بھوپالی 1932 میں بھوپال میں پیدا ہوئے ۔ قیام پاکستان کے بعد ان کاکنبہ نقل مکانی کرکے لاڑکانہ منتقل ہوگیا اور کچھ عرصے کے بعد حیدرآباد میں رہائش اختیار کی۔ آخر میں وہ کراچی منتقل ہوگئے تھے جہاںانہوں نے زندگی کے کئی اہم نشیب و فراز سے معرکہ آرائی کی اور آخرکارکل انہوں نے آخری ہچکی لی۔مرحوم کی دس اہم نگارشات منظر عام پر آئیں اور انہیں اعتبار عام اور قبولیت دوام حاصل ہوا۔ ان کی شاعری کا پہلا مجموعہ ’شکست شب1961 میں منظر عام پر آیا۔ دیگر مجموعہ ہائے کلام میں ’گرد مصافت‘ ، ’جستہ جستہ‘ ، ’نظمانے‘ اور ’ماجرہ‘ کو کلیدی حیثیت حاصل ہے۔محسن کی شاعری میں ادب اور معاشرے کے گہرے مطالعے کا عکس نظر آتا ہے۔کہنا غلط نہ ہوگا کہ انہوں نے اپنی شاعری کی دنیا آباد کرتے ہوئے کسی مخصوص صنف ادب تک خود محدود نہیں رکھا بلکہ مختلف اصناف ادب میں کامیاب طبع آزمائی کی اور موضوعاتی نقطہ ¿ نگاہ سے اردو شاعری کی اس روایت کو تنوع بخشنے کی بہرطور کوشش کی جس کی بنیاد میرو مومن اور غالب و اقبال نے رکھی تھی۔ان کے یہاںعشق مجازی سے لے کر عشق حقیقی تک کی جلوہ سامانی بخوبی دیکھنے کو ملتی ہے۔موصوف کی غزلوں میں ایسی ہی گلکاری دیکھنے کو ملتی ہے۔بطور نمونہ چند اشعار نذر قارئین کرنا بے محل نہ ہوگا:ع
    پہلو میں دل ہو اور دہن میں زباں نہ ہو
    میں کیسے مان لوں کہ حقیقت بیاں نہ ہو
    …………
    میرے سکوتِ لب پر بھی الزام آگئے
    میری طرح چمن میں کوئی بے زباں نہ ہو
    …………
    سوزِ دل و گدازِ جگر معتبر نہیں
    جب تک غم حبیب غم دو جہاں نہ ہو
    …………
    ہم نے اپنے خوں سے جلائی تھیں مشعلیں
    ہم سے تو اے نگارِ سحر بدگماں نہ ہو
    ……..
    محسن ہمارے طرزِ تکلم کی بات ہے
    ہر شخص سوچتا ہے مری داستاں نہ ہو
    محسن کی شاعری کا حسن یہ بھی ہے کہ ان کے بعض اشعار زبان زدعام ہی نہیں ہوئے بلکہ انہیں سند کا درجہ بھی دیا گیا۔قیام پاکستان کے بعد مملکت خداداد کے وجود کے تعلق سے کریڈٹ لینے والے بے ضمیر سیاست دانوں کی خبر لینے کا معاملہ ہو یا اغیار کے سامنے زانوئے ادب تہہ کرنے کی صاحب اقتداراحباب کی حکمت عملیاں،محسن صاحب شاعری کے ذریعہ جہاد جاری رکھنے سے کبھی پیچھے نہیں ہٹے۔یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری میںحقیقت حال پر تلخ تاثر دیکھنے کو ملتا ہے۔ع
    نیرنگی ¿ سیاست دوراں تو دیکھئے
    منزل انہیں ملی جو شریک سفر نہ تھے
    …………
    ہم مصلحت وقت کے قائل نہیں یارو
    الزام جو دینا ہو، سر عام دیا جائے
    …………
    ہوس کا نام عشق ہے طلب خودی کا نام ہے
    نظر اداس، دل ملول، روح تشنہ کام ہے
    …………
    ادھربھی سربکف میں ہوں ادھربھی صف بہ صف میں ہوں
    میں کس کا ساتھ دوں اس جنگ میں دونوں طرف میں ہوں
    …………
    وہ وقت آیا ہے محسن گرگیا ہوں اپنی نظروں سے
    بتایا جارہا تھا مجھ کو شایانِ سلف میں ہوں
    محسن بھوپالی نے غزل کے توسط سے فکر و فن کا جدو تو جگایا ہی،نظموںکے ذریعہ بھی انہوںنے اہل ذوق کو کم لطف اندوز نہیں کرایا۔جاپانی ادب کا اردو میں ترجمہ کیا اور ہائیکو میں بھی طبع آزمائی کی۔ ’خالق آہنگ‘کا مصنف بھلے ہی کسی اور چراغ کے گل ہوجانے پر اپنے شعری جذبات کا اظہار کرگیا ہو،مگر حق یہ ہے کہ ان کے یہ اشعار خودان کی شخصیت کیلئے حرف بہ حرف صادق آتے ہیں۔ع
    لو ایک اور ستارا خلا میں ڈوب گیا
    لو آج ” خالق آہنگ“ ہوگیا خاموش
    اُداس اُداس شبستاں ہیں میکدے ویراں
    عجیب شب کی نگاہیں تلاش کرتی ہیں
    کہاں گیا ری زلفیں سنوارنے والا
    فضائے دہر میں روپوش ہوگیا ہے کہاں
    دیارِ حسن پہ شب خون مارنے والا
    جواں دلوں کی اُمنگوں کو انتظار سا ہے
    بچھڑنے والا بچھڑ کر بھی ملنے آئے گا
    وہ پھول بادِ خزاں جس کو کرگئی برباد
    بہار میں وہ کلی بن کے مسکرائے گا
    ہمارے ولولے زندہ ہیں جس کے شعروں سے
    ہم اس کی یاد میں آنکھوں کو نم نہیں کرتے
    ہزاروں دیپ جلا کر جو آپ بجھ جائے
    ہم اُس چراغ کے بجھنے کا غم نہیں کرتے
    محسن صاحب کو بجھنے والے کسی چراغ کا غم بھلے نہ ہو،ہمیں محسن اردو کے گزر جانے کا غم ضرور ستاتارہے گا۔

  3. Nazr-e-Ustaad-e-Girami Hazrat-e-Mohsin Bhopali r.a
    Ahsaan kar k bhoolney wala ghazab ka tha
    Shaer to sab ka tha hi,wo mohsin bhi sab ka tha

    Ta umr saya daar-o-samar baar hi raha
    Aisa ghana darakht wo urdu adab ka tha!!

    Azim Rahi…….Talmeez-e-Mohsin Bhopali r.a

    • https://www.facebook.com/MohsinBhopali.Official
      ہزاروں دیپ جلا کر جو آپ بجھ جائے
      ہم اُس چراغ کےبجھنے کا غم نہیں کرتے
      ______ محؔسن بھوپالی ______

      Azim Rahi Sahib you are right and I like to share the height of his personality… That he took his takhaluss “Mohsin” after his best friend in Bhopal who didn’t migrate to Pakistan, So Mohsin Bhopali tokk him with him by keeping his name as hi pen name takhaluss “Mohsin”…

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: