ستر (70) سال بعد دوست سے ملاقات اور بڑھاپے کی معاشقے From Waris Kirmani’s autobiography

وارث کرمانی کی سرگزشت گھومتی ندی بیحد دلچسپ کتاب ہے۔وظیفہ یاب ہونے کے بعد اب وہ عرصہ سے اپنے آبای قصبہ میں سکونت اختیار کر ادب کی خدمت میں مشغول ہیں۔ وارث اب 80 سال کے ہیں اور تقریباً 70 برس کے بعد اپنے ایک بچپن کے دوست سے ملنے پھنچے۔ وہ ہندو دوست بھی حیات ہیں اور گزشتہ ستر سال کے دوران دونوں کے بیچ ایک بار بھی ملاقات نہیں ھویٰء

آخرکار جب وارث وہاں پھنچے تو انکے دوست حیران رہ گےءبڑے تپاک سے ملے اور مٹھایء منگوایء۔کمال تب ھوا جب وارث نے مٹھایء کا ٹکڑا توڑ کر آدھا خود کھایا اور آدھا دوست کی طرف بڑھایا مگر ھندو دوست نے وہ ٹکڑا نہ چھوا۔حیران اور مغموم وارث نے پرانی باتیں یاد دلاییںء کہ جب وہ دوست وارث کی جھوٹی مٹھایء تک کھا لیتے تھے (اب چھویء مٹھایء کھانے سےاحتراز)۔ اب انکے دوست کا چہرا بدل گیا اور بولے ’پرانی باتیں چھوڑو وہ الگ دور تھا’ وارث اس طرح کی مذہبی خلیج کی باتیں یاد کرکے افسردہ ہو جاتے ہیں۔ خیر سوانح میں انکی عشقیہ طبیعت کا ذکر خاص طور پر بڑھاپے میں پرانے معشوقوں سے ملاقاتوں کا تذکرہ لطف دے جاتا ہے۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s

%d bloggers like this: